Reasons Behind Environmental Pollution in Pakistan

Reasons Behind Environmental Pollution in Pakistan

Editors choice
1

‏آج سے کچھ دن پہلے بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ایک مضمون “سارنگ نارنگ” کے نام سے پڑھنے کا موقع ملا.

اپنے اسلوب میں بہترین تحریر ہے. اسی سے ملتا جلتا ایک مضمون چند ماہ قبل غالباً روزنامہ “نوائے وقت” میں مری کے قدرتی حسن کے مانند پڑنے پر پڑھا تھا. دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں مضامین ہماری خواتین کی جانب سے لکھے گئے ہیں. یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہماری خواتین سنجیدہ معاملات پر کس قدر متحرک ہیں. وہ نہ صرف فطرت سے لطف اندوز ہوتی ہیں بلکہ فطرت کو پہنچنے والے ننقصانات سے بھی آگاہ ہیں. لیکن ان مضامین کے مطالعہ کے بعد یہ تاثر میرے ذہن میں ابھرا ہے کہ دیہی علاقوں کی ترقی دراصل ماحولیاتی تبدیلیوں کا باعث بن رہی ہے. دیہاتوں میں بننے والی سڑکیں سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس قدر اثر انداز نہیں ہو رہی ہیں جتنا ناقص منصوبہ بندی اور عدم توجہی مسئلہ ہیں. گاؤں کی سطح پر صفائی کا نہ ہی کوئی انتظام موجود ہے اور نہ ہی کوئی ضابطہ جس سے کئی طرح کی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں. بے جا شکار اور ماضی سے تعلق ختم ہو جانے کے باعث بہت سے جنگلی جانور اور پرندے ناپید ہوتے جا رہے ہیں بہت سی مفید جڑی بوٹیاں عدم معلومات کی وجہ سے یا تو افادیت کھو گئی ہیں یا پھر ان کی حفاظت نہیں کی گئی تو وہ تلف ہو گئی ہیں . فطرت کی یہ تباہی ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے. اس سنگینی سے بلا شبہ ہم نے چشم پوشی کر رکھی ہے مگر جب اس کے نتائج عام سطح پر محسوس کیے جانے لگے تو شاید تدارک میں بہت دیر ہو جائے گی.
•شہر ایک زمانے سے ترقی کے نام پر فطری حسن کو خدا حافظ کہہ چکے ہیں لیکن اب دیہات بھی محفوظ نہیں رہے ہیں. سرمایہ دارانہ نظام نے ترقی کا مفہوم چونکہ منافع سمجھایا ہے اس لیے ہم اپنے پاؤ گوشت کے لیے دوسرے کی بھینس ذبح کرنے میں بلکل بھی عار محسوس نہیں کرتے. اسی طرح پارلیمانی نظام حکومت نے عملی طور پر ان علاقوں کی ترقی کو ہی حقیقی ترقی سمجھ لیا ہے جہاں پر پارلیمنٹ کی سیٹوں کی تعداد زیادہ ہے. وقتی طور پر تو ان باتوں میں قباحت نظر نہیں آتی مگر ایک مدت کے بعد ماحول پر اس کے اثرات شدید تر ہو سکتے ہیں. پیسے کی ہوس میں جنگلات معمولی منفعت کے لیے اجاڑے جا رہے ہیں. زرعی زمینوں کو اچھی گاڑی اور بنگلے کے عوض رہائشی سکیموں میں بدلا جا رہا ہے. اس کا برائے راست اثر ملک کی پیداواری صلاحیت پر پڑے گا. بلکہ قومی دولت کا ایک بڑا حصہ رئیل سٹیٹ کی نظر ہونے کا خدشہ ہے. غیر زرعی یا خام مال سے خالی علاقے اگر اس جانب عازم سفر ہیں تو ان کی منطق سمجھ آتی ہے ہمیں یہ لت کیوں لگ رہی ہے اس کی تشخیص کی ضرورت ہے. برطانیہ نے یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کر کے کہ سماجی ترقی کو معاشی ترقی پر فوقیت دینے کا درس دیا ہے. یہ ضروری نہیں ہے کہ معاشی ترقی ہی ماحولیاتی آلودگی یا فطرت کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے بلکہ منصوبہ بندی کا فقدان اور لا پرواہی اس سلسلے میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے. اس مسئلہ پر اگر توجہ نہ دی گئی تو لمحوں کی خطا پر صدیوں کی سزا کا اندیشہ ہے
•عمران خان نے شجر کاری مہم کو باقاعدہ منصوبہ بنانے کی کوشش کی تو انہیں نہ صرف مخالفین کی جانب سے تمسخر کا نشانہ بنایا گیا بلکہ ساتھ والوں کی جانب سے بھی عدم دلچسپی کا سامنا کرنا پڑا ہے. یہ ایک انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے اور اسے دیگر علاقوں تک وسیع کرنے کی ضرورت ہے. شہروں میں منصوبہ بندی کے ساتھ نئی تعمیرات کی جائیں اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کو متعارف کرانا ہوگا. اس وقت دیہی سطح پر کئی این جی اوز اور دانشور آگاہی کی کوشش کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن عمومی طور پر لوگ این جی اوز سے محتاط رہتے ہیں. ان کا خیال ہوتا ہے کہ ماحولیاتی بہتری محض ان کا چہرہ ہے پس پردہ مقاصد ہماری اقدار کو تباہ کرنا ہے. ضرورت اس امر کی ہے کہ غیر سرکاری تنظیموں کو علاقائی مناسبت کے ساتھ اپنے پروگرام ترتیب دینے چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سماجی عمل کا حصہ بن سکیں.
•دیہات میں بسنے والے افراد کو محض معاشی مسائل ہی کا سامنا نہیں رہتا بلکہ انہیں تعلیم صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے بھی شہروں کا محتاج رہنا پڑتا ہے. حقوق سے مکمل آگاہی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے دیہات سے شہروں کا رخ کرنے والوں کا سیاسی سماجی اور معاشی استحصال کیا جاتا ہے. بلکہ بعض اوقات دیہات سے حصول روزگار کے لیے آنے والے یہ سادہ لوح جرائم پیشہ افراد کی گینگ کا حصہ بن جاتے ہیں جس سے چند ہی سالوں میں یہ نامی گرامی ڈاکو اور اجرتی قاتل بن جاتے ہیں. اس کا عملی مظاہرہ کہیں پر بھی قبضہ گروپ اور منشیات فروشی کے اڈوں پر کیا جا سکتا ہے. دیہاتیوں کو سماجی طور پر بھی کمتر خیال کیا جاتا ہے. ان کو دیہاتی، پینڈو، گنوار اور بدھو خیال کیا جاتا ہے. ان کے لہجے، لباس اور انداز گفتگو کا تمسخر اڑیا جاتا ہے. ایسے میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے نام پر ہم ان سے کسی قسم کے تعاون کی توقع رکھیں تو ایسا ہی جیسے کسی قحط زدہ علاقے میں فزیکل فٹنس اور نیوٹریشن کے لیے کسی انقلابی تربیت کا بندوبست کر رہے ہیں. بنیادی سہولیات کو گاؤں کی سطح پر پہنچانا ترقی یافتہ پاکستان کے لیے ضروری اقدام ہے

Comments

comments

About author

Arshad Mehmood

Author is a social media and political activist living in UAE. He belongs from Kashmir Pakistan. He tweets @MrTech02 .

Your email address will not be published. Required fields are marked *